حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ نوری ہمدانی نے قم میں حوزہ علمیہ کے فضلاء سے ملاقات کے دوران کہا کہ آج علماء اور طلباء کا عوام کے درمیان رہنا نہایت ضروری ہے اور انہیں چاہیے کہ وہ عوام کی صحیح رہنمائی کریں۔ انہوں نے بعض خطباء کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مؤثر تقاریر کے ذریعے عوام کے حوصلے بلند رکھنا ایک اہم ذمہ داری ہے، جبکہ ایسے امور سے اجتناب کیا جائے جو نہ طلبہ کی ذمہ داری ہیں اور نہ ہی مفید ثابت ہوتے ہیں، بلکہ بعض اوقات الٹا اثر ڈال سکتے ہیں۔
انہوں نے تاکید کی کہ طلباء کو چاہیے کہ وہ عوامی اجتماعات میں شرکت کے ساتھ ساتھ اپنی علمی سرگرمیوں کو بھی جاری رکھیں اور درس و تدریس کو ترک نہ کریں۔ اس حوالے سے انہوں نے تاریخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں میدان جنگ میں بھی علمی مباحث کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔
مرجع تقلید نے خبردار کیا کہ دشمن کی سب سے بڑی کوشش معاشرے میں اختلاف پیدا کرنا ہے، لہٰذا اس سازش کو عوام کے سامنے واضح کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے حالات میں اتحاد کا تحفظ شرعی فریضہ ہے جبکہ اختلاف اور تفرقہ پیدا کرنا گناہ کے مترادف ہے۔
آیت اللہ نوری ہمدانی نے مزید کہا کہ اگرچہ مختلف آراء موجود ہو سکتی ہیں، لیکن موجودہ حساس حالات میں سب کو رہبر معظم انقلاب کے محور پر متحد رہنا چاہیے اور مسلح افواج و حکومتی ذمہ داران کی حمایت کرنی چاہیے۔
آخر میں انہوں نے حج کے حوالے سے واضح کیا کہ اصولی طور پر اگر جان کا خطرہ موجود ہو تو حج کی فرضیت ساقط ہو جاتی ہے، جو شریعت اسلامی کا ایک اہم اصول ہے۔









آپ کا تبصرہ